عذرا خانم کی ڈائری

عذرا خانم کی ڈائری

31 March 2009

عذرا خانم کی ڈائری

پنجابیوں کا مہاجروں کا ایک ہونا ،پنجابی مہاجروں کو ایک سمجھنا ،اصل میں تھے بھی ایک ہی ،کیوں کہ جو پنجابی تھے وہ بھی ہجرت کر کے ہندوستان سے ہی آئے تھے ۔جو علاقے اس سندھ میں رہ گئے تھے ان کےساتھ ہجرت کے وقت ایک ستم ظریفی مزید ہوئی کہ ان علاقوں کے بارے میں ان کی معلومات یہ تھیں کہ یہ پاکستان میں ہی رہیں گے لیکن تقسیم کی صورت میں اُن علاقوں کے لوگوں کو ہندووں اور خصوصاً اپنے ہی اہل زبان لوگوں کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔عورتیں شہید ہوءئیں ،اغواء ہوئیں ،بعض نے کنووں میں چھلانگیں لگائیں اپنی عصمت بچانے کے لئے کیوں کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی عورتوں میں عصمت کا تصور بھی تھا جبکہ اردو بولنے والے مہاجروں کو اپنےاہل زبان غیر مسلموں کے تشدد کا اس قدر نشانہ نہیں بننا پڑا ۔چوں کہ وہ علاقے پہلےہی تھے تقسیم کے بارے میں ۔وہ لوگ لٹے پٹے تو یقیناچوں کہ ایک بنایا بنایا گھر منتقل کرنا ہی ایک آفت سے کم نہیں ہوتا ۔چاہے وہ گھر کرایے کا ہی کیوں نہ ہو ان کی اکثریت اپنی جاءیدادیں اور جمے جمائے گھر بھی چھوڑ کرآئے ،اور ایک مخصوص ماحول اور کلچر بھی ۔ان دونوں چیزوں کی تبدیلی انسان میں ڈپریشن پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہےیقینا ان مسائل کا بھی پنجابی ،مہاجروں دونوں نے سامنا کیا ۔ان دنوں سندھ میں آبادی کم اور رقبہ زیادہ تھا ۔اس لئے اردو بولنے والے مہاجر اور پنجابی بولنے والے مہاجر جا بجا چھوٹے چھوٹے قصبوں میں پھیل گئے ان دونوں طبقات کی اکثریت پنجاب ،سرحد اور بلوچستان کے علاقوں میں آباد ہوئی ۔اور اپنے پچھلے جو پڑھے لکھے تھے وہ بیورو کریسی سے لیکر کلرک پوسٹ میں ریڑھی بان تجربات یا کی مدد سے کاروبار سمیٹ گءے آج بھی آپ ان مہاجروں کے سیٹ ہوئے کاروبار کوٹہ میں پشاور میں لاہور میں بھی دیکھ سکتے ہیں ان کی تقسیم بلازبان تھی ۔کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ بھائی دہلی سے آئے ہو تو لاہور کے ایف سی کالج میں کیوں پڑھ رہے ہو ۔آگرہ سے آئے ہو سندھ کےدور دراز علاقے میں کیوں رہ رہے ہو۔پرانی یادیں اور جیسا کہ ہر انسان کی فطرت میں ہوتا ہے،وہ بھی ان کے درمیان تھیں ۔اردو بولنے والے اور پنجابی بولنے والے مہاجروں کی آپس میں شادیاں بھی ہوئیں ۔لہذا آج کل کی اس نسل میں آپ کو بہت سےلوگ ایسے ملیں گے جن کی مائیں پنجابی ہیں اور باپ اردوبولنے والے ،دادی چچا یعنی دودھیال کےسب رشتہ دار اردو بولنے والے مہاجر اور ننھیال پنجابی بولنے والے مہاجر اور کراچی میں رہتےوہ نوجوان اگر پنجابیوں کو برا بھلا کہیں تو کیسے کیوں کہ ماں کو بُرا بھلا کہنا بہت ہی شرمناک کام ہے ،جو کہ کوئی بے غیرت ہی کر سکتا ہے ۔اس طرح بہت سے نوجوان ایسے ہیں جن کی دودھیال پنجابی بولنےوالی ہے اور ننھیال اردو بولنے والی اسی طرح سندھ کے علاقوں میں ایسے بھی نوجوان ہیں ،میری ذاتی سہیلیاں ایسی تھیں جن کے ننھیال اردو بولنے والے اور دودھیال سندھی بولنےوالے اور سندھ کے پرانے رہائشی کیوں کہ یہ سب رشتے یعنی نکاح مسلم ہونے کی بناء پر ہوئے تھے ناکہ پنجابی اردو یا سندھی بولنے کی بناء پر ۔جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان بھی مسلم قومیت کی بناء پر ہی بنا تھا ۔کے لسانی فسادات جسمیں اردو کے خلاف مہم چلائی گئی تو پنجابیوں نے بھر پور ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ جو کہ پہلے صرف متحدہ مہاجر موومنٹ کے نام پر وجود میںآئی تھی او اس میں صرف اردو بولنے والوں کی ہی شرکت تھی جبکہ اس میں پنجایبوں کی شرکت بھی لازمی ہونا چاہیے تھی جو کہ بولتے تو پنجابی تھے اور تھے مہاجر ۔۔۔اگر حقوق کے نقطہ نظر سے کوئی پارٹی بنانا مقصود ہی تھی ۔۔۔لیکن ہوا یوں کہ اس پہلو پر یا تو ویں یوم تاسیس کے موقع پر مجھے یاد آرہا ہے کہ جب یہ وجود پذیر ہورہا تھا مدتوں کراچی سلگتا رہا۔۔۔۔جلتا رہا ۔۔چاہے وہ بشریِ زیدی کے نام پر سلگا ہو چاہے وہ پختونوں کے نام پر ۔۔۔تھے تو وہ بے چارے بھی مہاجر ہی کیوں کہ ہجرت معاشی بھی ہوتی ہے اسی اثناء میںسندھ کے اندرون علاقوں سے اردو بولنے والے کراچی اور نسبتاً بڑے شہروں میں منتقل ہوتے چلے گئے ۔جو اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں سے دور جاتا ہے اسکی ہجرت معاشی ہوتی ہے اس میں وہ اپنے کلچر ،ثقافت ،کھانے ،بولی ہر چیز کی قربانی دیتا ہے چاہے وہ اپنے ہی ملک میں ہجرت کر ے یا دوسرے ملک میں ۔بعض صورتوں میں اس کے مذہب کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں ،جیسے آئے دن ہم انگلینڈ میں رہنے والے معاشی مہاجرین کی اولاد کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔نظام مصطفی کے لئے بہت کردار جماعت اسلامی نے ادا کیا اور چوں کہ بلاد سیل کو کوئی حل نہیںدے سکی تو یہ ایم کیو ایم وجود میں آئی ۔ان اردو بولنے والے متوسط طبقے میں مہاجروں کی بشمول پنجابی اور مہاجروں ایک مضبوط روایت اور کھانے اور اٹھنے بیٹھنے ۔۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان بھی مہاجر ہے چوں کہ اس کے بڑے جالندھر بستیاں سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔بجائے اس کے کہ یہ سب مہاجر مل کر پاکستان کے قیام کے مقصد کو حل کرتے لیکن چوں کہ ہر گروہ میں کالی بھیڑیں بھی ہوتی ہیں لیکن جب کچھ لوگ بلاتفریق ذات زبان عدلیہ کو بحال کروانے میں شریک تھے تو الطاف بھائی جان نے کہا دیکھو سندھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،حالانکہ سندھ کے اصل رہائشی تو وہاں خود موجود تھے ،جب کہ اس سے قبل محترمہ بے نظیر شہید ہوئیں تو بھائی جان نے بیان داغ دیا کہ سندھ کی بیٹی کو پنجاب کی زمین پر مار ڈالا مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا اس سے قبل بھی سندھ کے فرزند کو پنجاب نے ہی مارا ،جبکہ بھٹو صاحب پاکستان بننے کے بعد ہندوستان سے ہی تشریف لائے تھے بھٹو خاندان کی ہسٹری دیکھیں تو جیسا کہ ایک بار پیر پگاڑا نے بھی کہا تھا کہ بے نظیر توآرائیں ہے اور آرائیں تو پنجابی ہوتے ہیں ۔لیاقت علی خاں کے قتل کا الزام بھی پنجاب پر لگا دیا گیا جب کہ سب کو پتہ ہے کہ سید اکبر کون تھا اور کہاں سے آیا تھا ۔۔۔۔پنجابی کا محاورہ ہے چور نالوں پنڈ کالی یعنی کہ چور سے زیادہ گٹھری کو جلدی ۔۔۔جب کہ ان کے شوہر نے کہا کہ ہمیں پاکستان چاہیے ،اور ہمیں فخر ہے ان پنجابیوں پر جنھوں نے بی بی کے لئے سینوں پر گولیاں کھائیں ۔بجائے اس بات پر خوش ہونے کہ ہماری قوم اتنی با شعور ہوگئی ہے اور اتنی جرات مند ہوگئی ہے کہ کسی بھی مقصد کے لئے متحد ہوجائے ،ایسے لوگوں اور ایسے نام نہاد قائدین کی اکثریت لوگوں کو جن کے پاس اپنے معاشی معاملات سے ہٹ کر اتنا ٹائم ہی نہیں ہوتا کہ ہر بات کی تہہ تک جائیں ۔مجھے معلوم ہے کہ وہ دعوی کریں گے کہ ہماری جماعت میں فلاں فلاں پنجابی ہے لیکن یہ ایک گروہی جماعت بن گئی ہے ۔جذباتی طور پر گمراہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے ایسے لوگوں کی اکثریت آپ کو ہر قسم کے لوگوں میں ملے گی وہ خواہ خدا کا نام لے کر جذباتی کریں خواہ رسول کا نام لے کر ،خواہ زبان کا سہارا لے کر ،خواہ دوسری برادری ،مسلک کا سہارا لے کر ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ جو لوگ ہمیں مجتمع کر رہے ہیں وہ کہیں ہمارے اجتماع کو غیر مقاصد کے لئے تو استعمال نہیں کر رہے ۔آج کے لئے اتنا ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

????: Articles | 5 ?????

29 March 2009

Hello world!

اردو بلاگ حاصل کریں
پر خوش آمدید ، یہ خود کار مراسلہ ہے آپ اس کو حذف، اس میں ردوبدل کرسکتے ہیں اور اردو بلاگنگ سے لطف اندوزہوسکتے ہیں

????: Articles | 2 ?????

« ????